Thursday, March 19, 2026

A Letter never sent! (Part-II)

جانتی ہوں کہ بہت دل دُکھا چکی ہوں تمہارا... لیکن ایک دفعہ مجھے موقع تو دو بات کرنے کا... اشارہ تو دو کہ سامنے تم ہی ہو... کہ میں ایک آخری دفعہ سب سچ کہہ سکوں... حقیقت کیا ہے آگاہ کر سکوں... کہ تمہیں جو حقیقت لگتی ہے وہ دراصل حقیقت ہے ہی نہیں... سچ کیا ہے میں کہہ سکوں... اتنے سالوں سے جو اس دل میں دفن کر پھر رہی ہوں... وہ بتا سکوں... جھوٹ کہتی رہی ہوں کہ تم پہلی محبت نہیں ہو... صرف اس لیے کہ بددل ہو تم...


مجھے لگتا تھا کچھ بھی کہوں... کچھ بھی کروں... تم نہیں چھوڑو گے.... غلط تھی میں... بھول گئی تھی کہ تم بھی دل رکھتے ہو... اتنےذ سالوں سے خود کو روک کر بیٹھی تھی کہ نہیں کوئی فائدہ نہیں سچ بتانے کا... بہت دیر ہو چکی ہے... حالات پہلے سے نہیں رہے... وقت بدل چکا ہے... جو کچھ دل میں ہے وہ دل ہی میں رہ جانا چاہیے... مگر اب روک نہیں پائی... سب کے روکنے کے باوجود تمہیں آواز دے بیٹھی... اندازہ تھا مجھے کہ جواب نہیں دو گے تم... پلٹ کر واپس آ جائے گی آواز میری... مگر پھر بھی ایک آخری بار... دیکھنا چاہ رہی تھی کہ شاید میں دل کا حال بیان کر سکوں... تم سے مل سکوں... تمہیں بتا سکوں کہ تم سے جُڑی ہر چیز موجود ہے اب تک میرے پاس...


اب جب اجازت تم نے دے ہی دی تو میں کچھ کہ ہی نہ سکی.. حالِ دل تو بیان ہی نہ کر پائی... ڈھنگ سے محبت کا اعتراف تک نہ کر پائی... 


اب تم جو یہ کہتے ہو کہ اس سفر میں میں اکیلی تھی... کچھ خوف خُدا کا کھاؤ تم... نہ میرا دل دکھاؤ تم... میں یہ خواب جو اکیلے دیکھتی تھی... سہانے خواب سجاتی تھی... جو اولاد تم سے چاہتی تھی... جو ساتھ تم سے چاہتی تھی.... جو آشیانہ اپنا سوچتی تھی۔۔۔ وہ سب تو کسی اور کو دے بیٹھے تم.. اب یہ خواب جو میں دیکھتی تھی... کہاں لے کر جاؤں میں ان کو... کیا کروں میں ان کا۔۔۔ جب وہ ۔میرے ہی نہ رہے...


جانتے ہو میرا دل کیا چاہتا ہے اس وقت.... کہ ایک دفعہ... صرف ایک دفعہ تم سے سوال کر سکوں... جو آنسو روک کر بیٹھی ہوں وہ بہنے دوں... اور پھر تمہارا گریبان پکڑ کر پوچھوں.... کہ کیسے کر سکتے ہو تم یہ میرے ساتھ؟ کیسے میرے خواب کسی اور کو دے سکتے ہو؟ کیسے بھول سکتے ہو؟ کیسے چھوڑ سکتے ہو؟ کیسے آگے بڑھ چکے ہو؟

مگر کیسے؟ کیسے کہوں؟ کیسے سوال کروں؟ کھو چکی ہوں... سب کھو چکی... کھو بیٹھی ہوں اپنا حق تم پر... حتی کہ تمہیں ہی کھو بیٹھی!

No comments:

Post a Comment